Koran.biz

اسلام کی روشنی

→ سورہ فہرست پر واپس
88

Al-Ghashiyah — الغاشية

The Overwhelming

📖 آیات: 26 🕌 نزول: مکی
سورۃ الغاشیہ قرآن کی 88ویں سورۃ ہے جو مکی دور میں نازل ہوئی۔ یہ سورۃ آخرت کے احوال اور انسان کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتی ہے۔

تعارف اور شان نزول

سورۃ الغاشیہ قرآن کریم کی 88ویں سورۃ ہے جس کا نزول مکہ مکرمہ میں ہوا۔ اس سورۃ کا نام 'الغاشیہ' ہے جس کا مطلب ہے 'چھا جانے والی'، جو قیامت کے روز کی شدت اور ہولناکی کو بیان کرتا ہے۔ مکی سورتوں کی طرح، یہ بھی ایمان، آخرت، اور اللہ کے سامنے جوابدہی کے موضوعات پر مرکوز ہے۔

اہم موضوعات اور پیغامات

سورۃ الغاشیہ میں بنیادی طور پر قیامت کے دن کی ہولناکیاں اور جنت و جہنم کے انجام کا ذکر ہے۔ یہ سورۃ انسان کو اس دن کے حوالے سے خبردار کرتی ہے جب ہر انسان اپنے اعمال کے مطابق جزا یا سزا پائے گا۔ اس میں اللہ کی قدرت اور تخلیق کے نشانات پر بھی غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ انسان اللہ کی وحدانیت کو پہچان سکے۔

نمایاں آیات

أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ (سورۃ Al-Ghashiyah 88:17)

اس آیت میں انسان کو اللہ کی تخلیق پر غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے کہ وہ اونٹ کی تخلیق کو دیکھے اور اس میں موجود اللہ کی تخلیق کی عظمت کو پہچانے۔

وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ، عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ (سورۃ Al-Ghashiyah 88:2-3)

یہاں قیامت کے دن کی منظر کشی کی گئی ہے کہ کچھ چہرے اس دن عاجزی اور شرمندگی کے ساتھ ہوں گے، جو دنیا میں کیے گئے اعمال کی وجہ سے تھکے ماندے ہوں گے۔

فضائل و برکات

سورۃ الغاشیہ کی فضیلت میں صحیح احادیث میں خاص ذکر نہیں ہے، لیکن اس کا پڑھنا اور اس پر غور و فکر کرنا ایمان میں اضافہ کا باعث ہے۔ تمام قرآن کی تلاوت عمومی طور پر باعث برکت اور اللہ کے قریب کرنے والی ہے۔

جدید زندگی میں عملی اطلاق

سورۃ الغاشیہ ہمیں اپنے اعمال کے بارے میں سنجیدہ ہونے کی ترغیب دیتی ہے اور اللہ کی نشانیوں پر غور و فکر کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ موجودہ دور میں جہاں مادی ترقی نے انسان کو اللہ سے دور کر دیا ہے، اس سورۃ کی تعلیمات انسان کو اپنی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کراتی ہیں اور اللہ کے سامنے جوابدہی کے احساس کو بڑھاتی ہیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سورۃ الغاشیہ کی تلاوت کا کیا فائدہ ہے؟

سورۃ الغاشیہ کی تلاوت انسان کو آخرت کے بارے میں غور و فکر کرنے کی ترغیب دیتی ہے اور اللہ کی تخلیق میں غور و فکر کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

کیا سورۃ الغاشیہ میں کوئی خاص دعا یا وظیفہ ہے؟

قرآن کی تلاوت اور اس پر غور و فکر بذات خود ایک عظیم عبادت ہے، تاہم اس سورۃ میں کوئی خاص دعا یا وظیفہ نہیں بتایا گیا۔

سورۃ الغاشیہ میں قیامت کے دن کی کیا تفصیل دی گئی ہے؟

سورۃ الغاشیہ میں قیامت کے دن کی ہولناکیاں اور جنت و جہنم کے انجام کا ذکر ہے، جہاں کچھ چہرے عاجزی اور شرمندگی کے ساتھ ہوں گے، جبکہ کچھ چہرے خوش و خرم ہوں گے۔

→ سورہ فہرست پر واپس