Koran.biz

اسلام کی روشنی

→ سورہ فہرست پر واپس
80

Abasa — عبس

He Frowned

📖 آیات: 42 🕌 نزول: مکی
سورۃ Abasa کی تفصیلی وضاحت، شان نزول، اہم موضوعات، اور اس کے عملی اطلاق پر مبنی رہنما۔

تعارف اور شان نزول

سورۃ Abasa قرآن کریم کی 80ویں سورۃ ہے جو مکی دور میں نازل ہوئی۔ اس سورۃ میں 42 آیات ہیں اور اس کا نام 'عبس' اس کے ابتدائی الفاظ سے لیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے 'چہرہ بگاڑا'۔ اس سورۃ کے نزول کی شان میں یہ واقعہ مشہور ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک قریش کے سردار سے بات کر رہے تھے کہ ایک نابینا صحابی، حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ، آپ کے پاس آئے اور دینی رہنمائی طلب کی۔ نبی کریم ﷺ کی توجہ کسی اہم قریشی سردار کی طرف تھی، اس لیے آپ ﷺ نے ابن ام مکتوم کی طرف فوری توجہ نہ دی، جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو رہنمائی فرمائی۔

اہم موضوعات اور پیغامات

سورۃ Abasa کا اہم پیغام انسانوں کے درمیان مساوات اور تقویٰ کی بنیاد پر فضیلت کا بیان ہے۔ اس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ دنیاوی حیثیت اور مال و دولت کی بجائے اللہ کے نزدیک عزت و احترام کا معیار تقویٰ ہے۔ یہ سورۃ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دوسروں کے ساتھ حسن سلوک کریں، خاص طور پر کمزور اور معذور افراد کے ساتھ۔

نمایاں آیات

سورۃ Abasa 80:1-2 - "(نبی) چہرہ بگاڑ بیٹھے اور منہ پھیر لیا۔ کیونکہ ان کے پاس ایک نابینا آیا۔"

ان آیات میں نبی اکرم ﷺ کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک پیغام ہے کہ کسی بھی شخص کی سماجی حیثیت کے مطابق نہیں بلکہ اس کی دینی طلب کے مطابق اس کی طرف توجہ دی جانی چاہیے۔

سورۃ Abasa 80:24 - "پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کو دیکھے۔"

یہ آیت ہمیں ترغیب دیتی ہے کہ ہم اللہ کی نعمتوں کی قدر کریں اور شکرگزار رہیں۔ انسان کو اپنی ضروریات کے لیے اللہ کے فضل کی طرف دیکھنا چاہیے اور اس کی طرف سے دی گئی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

فضائل و برکات

سورۃ Abasa کی تلاوت کے مخصوص فضائل کے متعلق صحیح احادیث نہیں ملتی ہیں، مگر عمومی طور پر قرآن مجید کی تلاوت دل کی تسکین، روحانی تقویت اور اللہ تعالیٰ کی قربت کا ذریعہ بنتی ہے۔

جدید زندگی میں عملی اطلاق

سورۃ Abasa کے پیغامات آج کے دور میں بھی انتہائی اہم ہیں، جب معاشرتی مساوات اور انسانیت کی خدمت کی ضرورت ہے۔ اس سورۃ سے ہم یہ سیکھ سکتے ہیں کہ ہمیں اپنی زندگی میں دوسروں کی ضروریات کو اہمیت دینی چاہیے، خاص طور پر کمزور طبقے کے افراد کی مدد کرنی چاہیے۔ یہ سورۃ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تقویٰ اور نیکی کے اعمال ہی اصل میں انسان کی فضیلت کا معیار ہیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال 1: سورۃ Abasa کس واقعے کے پس منظر میں نازل ہوئی؟

یہ سورۃ حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے واقعے کے پس منظر میں نازل ہوئی جب وہ نبی کریم ﷺ کے پاس دینی رہنمائی کے لیے آئے تھے۔

سوال 2: سورۃ Abasa میں کس اہم سبق کی طرف توجہ دلائی گئی ہے؟

اس سورۃ میں سماجی مساوات، تقویٰ کی اہمیت، اور دوسروں کے ساتھ حسن سلوک کا سبق دیا گیا ہے۔

سوال 3: کیا سورۃ Abasa کی تلاوت کے مخصوص فضائل ہیں؟

سورۃ Abasa کی تلاوت کے خاص فضائل کے بارے میں صحیح احادیث موجود نہیں، لیکن قرآن کی عمومی تلاوت روحانی فائدے کا ذریعہ ہے۔

→ سورہ فہرست پر واپس