Koran.biz

اسلام کی روشنی

میلاد النبیؐ: حضرت محمدؐ کی ولادت، جشن اور علمائے دین کے نقطہ نظر

📅 2026-09-15 📖 Category: mawlid_al_nabi
میلاد النبیؐ مسلمانوں کے لئے ایک خاص موقع ہے، جو حضرت محمدؐ کی ولادت کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ اس مضمون میں اس کی تاریخی اہمیت اور علمائے دین کے نظریات کی وضاحت کی گئی ہے۔

حضرت محمدؐ کی ولادت

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ۱۲ یا ۹ ربیع الاول کو مکہ مکرمہ میں ہوئی، جو اسلامی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے۔ آپؐ کا نام محمد رکھا گیا، جو 'بہت تعریف کی گئی شخصیت' کا مفہوم رکھتا ہے۔ قرآن میں آپؐ کی آمد کو 'رحمۃ للعالمین' (سورۃ الانبیاء: 107) کے طور پر بیان کیا گیا ہے، یعنی آپؐ کی آمد تمام جہانوں کے لئے رحمت ہے۔

میلاد النبی: تاریخ اور جشن

میلاد النبیؐ کا جشن عموماً ربیع الاول کے مہینے میں منایا جاتا ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق سب سے پہلے اس جشن کا آغاز فاطمی خلافت کے دور میں مصر میں ہوا۔ اس موقع پر مساجد کو سجایا جاتا ہے، محافل نعت کا اہتمام کیا جاتا ہے، اور سیرت النبیؐ پر بیانات دیے جاتے ہیں۔ اس دن کو مسلمانوں کے لئے خوشی اور برکت کا دن تصور کیا جاتا ہے۔

قرآن اور سنت کی روشنی میں

قرآن مجید میں براہ راست میلاد النبی کا ذکر نہیں ملتا، تاہم اللہ تعالیٰ نے نبی کریمؐ کی بعثت کو عظیم نعمت کے طور پر ذکر کیا ہے۔ سورۃ الجمعہ: 2 میں فرمایا، 'وہی ہے جس نے ان پڑھوں میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا، جو ان کے سامنے اس کی آیات پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے۔' نبی کریمؐ کی ولادت اور بعثت دونوں کو مسلمانوں کے لئے رحمت کا باعث قرار دیا گیا ہے۔

"بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود اور خوب سلام بھیجا کرو۔" (سورۃ الاحزاب: 56)

علمائے دین کا نقطہ نظر

میلاد النبیؐ کے جشن پر علمائے دین کے درمیان مختلف آراء موجود ہیں۔ بعض علماء اس کو بدعت قرار دیتے ہیں، جبکہ دیگر اسے محبت رسولؐ کا اظہار سمجھتے ہیں۔ امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ نے کہا کہ جو لوگ محبت اور عقیدت کے ساتھ یہ دن مناتے ہیں، انہیں اس کے اجر کی امید رکھنی چاہیے، بشرطیکہ یہ عمل شریعت کے خلاف نہ ہو۔

علماء کا ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ قیام میلاد کی اصل روح نبی کریمؐ کی سیرت اور تعلیمات کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ہے۔ ان کی تعلیمات کو فروغ دینا اور ان کی حیات طیبہ کو مشعل راہ بنانا ہی اصل مقصد ہونا چاہیے۔

→ العودة إلى الدراسات