Koran.biz

اسلام کی روشنی

قرآن میں حضرت عیسیٰ اور مریم علیہما السلام کا اسلامی نقطہ نظر

📅 2026-09-14 📖 Category: prophet_isa
قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ اور مریم علیہما السلام کی اہمیت اور مقام پر جامع مضمون۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تعارف

قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایک نبی اور رسول کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات عطا فرمائے اور ان کی پیدائش کے واقعہ کو قرآن میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا 'کلمہ' بھی کہا گیا ہے، جو اللہ کی طرف سے ایک خاص پیغام کی نمائندگی کرتا ہے۔ سورۃ آل عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ" (آل عمران: 45)

حضرت مریم علیہا السلام کا مقام

حضرت مریم علیہا السلام کو قرآن میں نہایت ہی عزت و احترام کے ساتھ یاد کیا گیا ہے۔ انہیں 'صدیقہ' (راستباز) کہا گیا ہے اور ان کی پاکدامنی اور اللہ کی عبادت میں ان کے خشوع کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورۃ مریم میں ان کی داستان بیان کی گئی ہے جس میں ان کی عبادت اور معجزانہ پیدائش کا تذکرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے خاص بندوں میں شامل کیا اور ان کی پاکی کی تعریف کی۔ قرآن میں فرمایا گیا:

"وَإِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَىٰ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ" (آل عمران: 42)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے کئی معجزات عطا فرمائے، جن میں مٹی سے پرندہ بنا کر اڑانا، مادر زاد نابینا کو بینائی دینا، کوڑھی کو شفا دینا، اور مردوں کو زندہ کرنا شامل ہیں۔ یہ معجزات اللہ کی اجازت سے ہوئے اور ان کا مقصد لوگوں کو اللہ کی طرف رجوع کرانا تھا۔ سورۃ آل عمران میں اللہ تعالیٰ ان کے معجزات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

"وَأُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَأُحْيِي الْمَوْتَىٰ بِإِذْنِ اللَّهِ" (آل عمران: 49)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی

اسلامی تعلیمات کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمانوں پر اٹھا لیا گیا تھا اور وہ قیامت کے قریب دوبارہ دنیا میں واپس آئیں گے۔ ان کی واپسی کا مقصد دنیا میں عدل و انصاف قائم کرنا ہوگا۔ سورۃ النساء میں ان کی رفع کا ذکر ہے:

"بَل رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا" (النساء: 158)

→ العودة إلى الدراسات