قرآن کا تاریخی سیاق اور اس کی تدوین
قرآن کا تاریخی سیاق
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا آخری کلام ہے، جو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ۲۳ سال کے عرصے میں نازل ہوا۔ یہ نزول اربی زبان میں ہوا تھا اور اس زمانے میں ارب معاشرے میں جہلیت کی انتہا تھی۔ قرآن نے انسانوں کو ان کے خالق کی طرف رجوع کرنے کا دعوت دی اور انہیں انصاف اور اخلاقی اصولوں کی رہنمائی فراہم کی۔
قرآن کا نزول
قرآن کا نزول مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ہوا۔ مکی سورتیں زیادہ تر اخلاقی اصولوں، توحید، اخروت کی یقین دہانی اور نبوت کے اصولوں پر مشتمل ہیں۔ مدنی سورتیں امت کو ایک خود مختار معاشرہ بنانے، اقتصادی، سماجی اور سیاسی نظام قائم کرنے کے اصولوں پر زور دیتی ہیں۔
اور جب قرآن پڑھا جائے تو تم خاموش ہوکر اس کی تلاوت کو سنو تاکہ تم پر رحمت ہو سکے۔ (سورہ اعراف، آیت 204)
قرآن کی تدوین
قرآن کی تدوین سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوئی۔ اس زمانے میں قرآن کریم کو مختلف لوحوں، کھالوں اور کاغذوں پر محفوظ کیا گیا تھا۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے مختلف علاقوں میں قرآنی نسخے بھیجے تھے تاکہ لوگ اس کی تلاوت کر سکیں۔